11 July, 2016 22:36

NADEEM MALIK LIVE

http://videos.samaa.tv/NadeemMalik/

11-JULY-2016

ایدھی صاحب اگر کسی بچے کی جھولے میں جان بچا لیتے تو بے انتہا خوش ہوتے۔ فیصل ایدھی کی ندیم ملک لائیو میں گفتگو

اگر کسی بچے کی لاش ملتی تو ایدھی صاحب کو بہت دکھ ہوتا تھا۔ فیصل ایدھی

ہزاروں بچے جن میں معزور بچوں کی بہت بڑی تعداد ہے آج ایدھی صاحب کی وجہ سے زندہ ہیں۔ فیصل ایدھی

ایدھی سنٹر میں جو بچے آتے ہیں ان میں سے انیس بچیاں جبکہ ایک بچہ ہوتا ہے کیونکہ لوگوں کو بیٹا چاہئیے ہوتا ہے۔ فیصل ایدھی

ہمرے نظام میں لڑکیوں کو بوجھ سمجھا جاتا ہے اور لڑکوں کو عزت دی جاتی ہے۔ فیصل ایدھی

ایدھی صاحب نے مجھے ان کا کام آگے بڑھانے کا کہا اور بنک اکاؤنٹس میں میرے دستخط ڈال دئیے۔ فیصل ایدھی

میں ایدھی صاحب والا رتبہ تو نہیں پا سکتا لیکن میں ادارے کو ایدھی صاحب والی بنیادوں پر چلانے کی کوشش کروں گا۔ فیصل ایدھی

مجھے ایدھی صاحب کے بھیک مشن کا علم اور تجربہ ہے میں اسے آگے چلاؤں گا۔ فیصل ایدھی

ایدھی سنٹر کو میری ماں اور بہنیں چلاتی ہیں میں ان کی مدد کرتا ہوں۔ فیصل ایدھی

ایدھی سنٹر چلانے کے لئیے سالانہ ڈیڑھ سے دو سو کروڑ روپے کا بجٹ درکار ہوتا ہے۔ فیصل ایدھی

ایدھی صاحب کا مشن بہٹ بڑا ہے اسے آگے بڑھنا چاہئیے ایدھی صاحب نے اپنی شخصیت کے علاوہ ایک مظبوط ادارہ بھی کھڑا کیا۔ شاہ محمود قریشی

ایدھی صاحب نے لیڈرشپ بھی فراہم کی اور لوگوں کی تربیت بھی کی۔ شاہ محمود قریشی

ایدھی صاحب نے ایک ٹیم بنائی تا کہ جب وہ نہ ہوں تو ان کا مشن چلتا رہے۔ شاہ محمود قریشی

ایدھی صاحب نے خود کو مٹا دیا اور امر ہو گئے۔ شاہ محمود قریشی

ایدھی صاحب کی کمٹمنٹ اور نیک نیت تھی جس کے ساتھ انہوں نے کام کیا۔ سعید غنی

ایدھی صاحب کو اپنے مشن کے دوران بہت ساری مشکلات بھی پیش آئیں۔ سعید غنی

ڈکشنری میں ایسے الفاظ نہیں ہیں کہ جن سے ایدھی صاحب کو خراج تحسین پیش کیا جا سکے۔ سعید غنی

ہم سب کو اب ایدھی سنٹر کی مدد کرنی چاہئیے تا کہ یہ ادارہ چلتا رہے۔ سعید غنی

سٹیٹ کو ایدھی سنٹر کی مدد کرنی چاہئیے لیکن دنیا میں ایسے ادارے زیادہ تر پرائیویٹ لوگ ہی چلاتے ہیں۔ رانا تنویر

موجودہ صورت حال میں ایدھی صاحب دنیا میں پاکستان کا اچھا چہرہ پیش کرنے والے انسان تھے۔ رانا تنویر

ایدھی صاحب کی کامیابیاں در حیقت ریاست کی ناکامیاں ہیں۔ رضا ہارون

ایدھی صاحب کے رفاعی کاموں کا مطلب یہ ہے کہ جو کام ریاست کے تھے وہ انہوں نے کئیے۔ رضا ہارون

ایدھی صاحب ایک وقت پاکستان چھوڑ کر چلے گئے تھے ان کی جان کو خطرہ تھا۔ رضا ہارون

ایدھی صاحب ایک دفعہ بی ڈی ممبر اور مجلس شوری کے ممبر بنے لیکن پھر چھوڑ دیا کہ لوگوں کی خدمت نہیں کر پا رہے۔ فیصل ایدھی

ایدھی صاحب چاہتے تھے کہ سرکاری سٹرکچر اتنا اچھا ہو کہ سب لوگوں کو علاج کی سہولتیں ملیں۔ فیصل ایدھی

ایدھی صاحب علاج کے لئیے لندن اس لئیے نہیں گئے کہ لندن جیسے ہسپتال پاکستان میں بنیں۔ فیصل ایدھی

ایدھی صاحب ہمیشہ پاکستان میں نظام کو تبدیل کرنے کی بات کرتے تھے تا کہ لوگوں کو سہولتیں ملیں۔ فیصل ایدھی

میں انیس سو چھیاسٹھ میں ایدھی سنٹر میں نرسنگ میں کام کرتی تھی کہ جب میری ایدھی صاحب سے شادی ہو گئی۔ بلقیس ایدھی

ایدھی سنٹر میں زیادہ تر بچے لاہور اسلام آباد اور کراچی کے ہوتے ہیں۔ بلقیس ایدھی

ایدھی سنٹر کو اب تک پندرہ سے سولہ ہزار بچے مل چکے ہیں اور اس سے زیادہ کو دفن کر چکے ہیں۔ بلقیس ایدھی

ہم لاوارث بچوں کو ان خاندانوں کو دیتے ہیں جن کی مالی حٰثیت اچھی ہو تا کہ وہ بچے کا خیال رکھ سکیں۔ بلقیس ایدھی

ہم بچہ حوالے کرنے کے بعد بھی چیک کرتے رہتے ہیں کہ وہ بچے کے ساتھ کس طرح کا سلوک کر رہے ہیں۔ بلقیس ایدھی

میری ماں مجھے ہمیشہ سادگی سے زندگی گزارنے کی تلقین کرتی تھیں۔ بلقیس ایدھی

ٹیکس اور زکوت چوروں نے ہمارے ملک کو غربت دی ار وہ ڈاکو بن چکے ہیں۔ بلقیس ایدھی

ایدھی صاحب کہا کرتے تھے کہ ایک دن پاکستان ضرور فلاحی ریاست بنے گا۔ بلقیس ایدھی

ایدھی سنٹر میں اس وقت چودہ سو کے قریب بے سہارہ خواتین موجود ہیں۔ بلقیس ایدھی

ایدھی صاحب کہا کرتے تھے کہ مردہ انسانوں سے نہیں ڈرتے زندہ لوگ ہیں جو ڈس لیتے ہیں۔ بلقیس ایدھی

ایدھی صاحب ایک دفعہ مجھے بتائے بغیر جان بچانے کے لئیے لندن چلے گئے تھے۔ بلقیس ایدھی

جن لوگوں نے ایدھی سنٹر میں چوری کی تھی وہ بلوچستان اور لندن میں کاروبار کر رہے ہیں۔ بلقیس ایدھی

ایدھی سنٹر میں چوری کرنے والے بااثر لوگ ہیں ان پر کوئی ہاتھ نہیں ڈال سکتا۔ بلقیس ایدھی

ایدھی صاحب بیمار ہی سنٹر میں چوری ہو جانے کی وجہ سے ہوئے تھے۔ بلقیس ایدھی

میرا بیٹا میرے ساتھ ہے ہم ایدھی صاحب کے مشن کو آگے لے کر چلیں گے۔ بلقیس ایدھی

مودی نے ایک کروڑ روپیہ دینے کو کہا ایدھی صاحب نے کہا اپنے ملک میں گونگوں کے کسی سکول کو دے دیں ہم نہیں لیں گے۔ بلقیس ایدھی

ہم حکومت کا کام کر رہے ہیں آپ ہمیں ہی حکومت سمجھیں۔ بلقیس ایدھی

اگر مجھے پتہ ہوتا کہ ایدھی سنٹر میں چوری ہو جائے گی تو پیسوں کو پاناما میں رکھوا دیتی۔ بلقیس ایدھی

میں نے جنرل راحیل کو ایدھی سنٹر میں ہونے والی چوری کا بتایا تو انہوں نے لکھ لیا۔ بلقیس ایدھی

ڈی جی رینجرز جنرل بلال کی وجہ ڈھائی کلو سونا واپس ملا ہے۔ بلیس ایدھی

جنرل راحیل نے مجھ سے کہا اگر کوئی خدمت ہو تو مجھے باتیں۔ بلقیس ایدھی