22 April, 2016 11:30

NADEEM MALIK LIVE

http://videos.samaa.tv/NadeemMalik/

21-APRIL-2016

ملٹری آفیسرز کے خلاف کرپشن کی وجہ سے کاروائی کرنے کی وجہ سے جنرل راحیل شریف کا گراف اور اوپر چلا گیا ہے۔ آج کے واحد مہمان عمران خان کی ندیم ملک لائیو میں گفتگو

فوج کے اندر کرپشن کے خلاف کروائی کرنے سے ادارہ مظبوط ہو گا۔

پاکستان میں بہت مثبت تبدیلی آ رہی ہے اور یہ بہت اچھی بات ہے۔

نواز شریف عالمی طور پر یہ تاثر دے رہے ہیں کہ وہ تو بھارت کے ساتھ تعلقات ٹھیک کرنا چاہتے ہیں لیکن فوج ایسا نہیں چاہتی۔

نواز شریف دنیا میں پاکستان کی فوج کو بدنام کر رہے ہیں۔

ساری دنیا پانامہ پیپرز پر صفائیاں دے رہی ہے اور نواز شریف دوسروں پر الزامات لگا رہے ہیں کہ آپ بھی کرپٹ ہیں۔

نواز شریف اور مسلم لیگ ن خود پر لگے الزامات کے جواب میں شوکت خانم پر الزمات لگا رہے ہیں۔

علیم خان کا نام پانامہ پیپرز میں نہیں ہے اور انہوں نے اپنے غیر ملکی اثاثے ڈیکلیر کئیے ہوئے ہیں۔

نواز شریف کہتے ہیں کہ ان کے خلاف سازش کی جا رہی ہے حالانکہ وہ ایک غیر ملکی لا فرم کا کمپیوٹر ہیک ہونے کی وجہ سے پھنسے ہیں۔

احتساب شریف خاندان سے شروع ہو گا پھر عمران خان اور علیم خان کا بھی کریں۔

اشو یہ ہے کہ آف شور کمپنیاں بنانے کے لئیے نواز شریف کے پاس پیسہ کدھر سے آیا۔

نواز شریف پر ٹیکس بچانے، کرپشن ، منی لانڈرنگ اور الیکشن کمشن کے سامنے جھوٹ بولنے جیسے چار الزامات ہیں۔

ہمارا الیکشن کمشن درحقیقت الیکشن کمشن آف پاکستان نہیں ہے بلکہ الیکشن کمشن آف ن لیگ ہے جو ن لیگ کا کیس لڑتا ہے۔

پاکستان اسلام کے عظیم فلسفہ پر بنا لیکن یہاں لیڈر کہتا ہے کہ کیونکہ سارے کرپٹ ہیں اس لئیے وہ بھی کرپٹ ہے۔

پانامہ پیپرز پر اب نواز شریف کے خلاف تحقیقات ضرور ہوں گی یہ اس سے نہیں بچیں گے۔

نواز شریف نے اپنا پیسہ بچوں کے نام منتقل کیا ہے اور یہ کرپشن کا پیسہ ہے۔

جنرل راحیل نے کہا ہے کہ سب کا احتساب ہونا چاہئیے یہ بات سیاسی جماعتوں کو کہنی چاہئیے تھی۔

غریب لوگوں پر ٹیکس پہ ٹیکس لگا ہوا ہے اور آدھا ٹیکس کا پیسہ قرضے ادا کرنے میں استعمال ہو جاتا ہے لیکن قرضے وہیں کے وہیں ہیں۔

میٹرو بس، اورنج ٹرین اور نندی پور جیسے منصوبوں سے پیسہ چوری کر کے باہر بھیجا جاتا ہے۔

پانامہ پیپرز پر تحقیقات کرنے کے لئیے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کے تحت کمیٹی بنانے پرتمام سیاسی جماعتوں میں اتفاق رائے ہو چکا ہے۔

تحقیقاتی کمیٹی میں آئی ایس آئی، آئی بی اور شوہد اکٹھا کرنے والی ایک غیر ملکی فرم کا شامل کیا جانا چاہئیے۔

جب ریاست پانامہ پیپرز میں لگے الزامات کی تحقیقات کا حکم دے گی تو جن پر الزام ہے ان کے تمام ملکی اور غیر ملکی اکاؤنٹ فریز ہو جایں گے۔

میں زمہ داری لیتا ہوں کہ تحقیقات کے لئیےجو غیر ملکی فرم آئے گی اس کی فنڈنگ اوورسیز پاکستانیوں سے میں کرواؤں گا۔

وزیراعظم کبھی استعفی نہیں دیں گے کیونکہ وہ الیکشن کمشن، نیب ایف آئی اے وغیرہ کو کنٹررول کر رہے ہیں۔

نواز شریف کہہ رہے ہیں کہ شوکت خانم کے خلاف تحقیقات ہونی چاہئییں پہلے اپنے خلاف تحقیقات کروا کر اخلاقی جواز تو پیدا کریں۔

شوکت خانم ایک خیراتی ادارہ ہے اگر کوئی غلط کام ہو رہا تھا تو حکومت کا کام تھا پکڑنا اب خود پر پڑی ہے تو مجھے بلیک میل کر رہے ہیں۔

نواز شریف شوکت خانم اور آئی ٹی ایف پر الزام لگا رہے ہیں میں ان سے پوچھتا ہوں ک انہوں نے کوئی تحقیقات کی ہیں۔

میں نواز شریف کو چیلنج دے رہا ہوں کہ آپ شوکت خانم اور آئی ٹی ایف کے خلاف جتنی تحقیقات کریں گے میری عزت میں اور اضافہ کریں گے۔

تحقیقات کرنے سے لوگوں کو پتہ چل جائے گا کہ عمران خان نے ہسپتال میں اپنا کتنا پیسہ ڈالا ہے۔

میں نے بنی گالا والا گھر اپنا لندن میں فلیٹ بیچ کر بنایا جس کی ساری تفصیلات میں بتا چکا ہوں۔

میں وہ شخص ہوں جس نے کرکٹ سے باہر پیسہ بنایا اور اسے اپنے ملک میں لے کر آیا اور میرا سب کچھ میرے نام پر ہے بچوں کے نام پر نہیں ہے۔

اگر حکومت نے کرپشن کے خلاف تحقیقات نہیں کروائیں تو پھر ہم پر امن احتجاج کریں گے اور احتجاج ایک جمہوری حق ہوتا ہے۔

اس بار میں تمام سیاسی جماعتوں کو اکٹھا کروں گا میں مسلم لیگ ن کے لوگوں سے بھی کہوں گا کہ اپنے بچوں کے مستقبل کے لئیے نکلو۔

میں چوبیس تاریخ کو اپنا آئیندہ لائحہ عمل دوں گا۔

بیس سال پہلے میں نے اپنا سفر شروع کیا تھا اور کہا تھا کہ ہم کرپشن کو ختم کریں گے تو سب نے میرا مزاق اڑایا تھا لیکن آج ساری قوم متفق ہو چکی ہے۔

تحقیقاتی کمشن کا فیصلہ بہت جلد آ جائے گا اس میں زیادہ وقت نہیں لگے گا پانامہ پیپرز کی وجہ سے چیزیں تو سامنے آ چکی ہیں۔

دنیا میں کوئی ایک شخص بھی ایسا نہیں ہے کہ جس نے کہا ہو کہ پانامہ پیپرز کی تفصیلات غلط ہیں۔

تحقیقات کا پراسس لمبا نہیں ہو گا یہ ٹونٹی ٹونٹی اور ففٹی اوورز کے درمیان کیا بات ہو گی۔

میں نے اپنی پارٹی کو کہہ دیا ہے کہ الیکشن کی تیاری کریں۔

نواز شریف نے تو دو ہزار اٹھارہ سے آگے کی بھی تیاری کی ہوئی تھی لیکن اللہ کی بھی ایک سکیم ہے جو کچھ ہوا ہے یہ اللہ کی طرف سے ہے۔

پی ٹی آئی کی بیس سال کی جدوجہد ہے جو کسی اور جماعت نے نہیں کی بھٹو نے جدوجہد کی تھی لیکن وہ چار سال میں برسر اقتدار آ گئے تھے۔