6 April, 2016 10:24

NADEEM MALIK LIVE

http://videos.samaa.tv/NadeemMalik/

05-APRIL-2016

میاں صاحب نے پاکستان کے پورے سسٹم پر قبضہ کر رکھا ہے الیکشن کمشن، نیب، ایف آئی اے، پولیس سب پر قبضہ کر رکھا ہے۔ آج کے واحد مہمان عمران خان کی ندیم ملک لائیو میں گفتگو

آگے دو ہزار اٹھارہ کے الیکشن میں پھر باری لینے کی تیاریاں ہو رہی ہیں اور ان کے بچے بھی باری لینے کے لئیے تیار ہو رہے ہیں۔

ایک منصوبہ انسان بناتا ہے اور ایک اللہ بناتا ہے اور اللہ کا ایسا منصوبہ بنا ہے کہ اب میاں صاحب پھنس گئے ہیں۔

اب تو یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ یہ آئی ایس آئی نے کروایا ہے یا را کی سازش ہے یا عمران خان شور کر رہا ہے۔

نواز شریف کے ایک بیٹے کا لندن میں پچاس ملین ڈالر کا گھر ہے یہ پیسہ کدھر سے آیا ہے۔

مریم نواز کہتی ہیں کہ ان کی اور ان کے خاندان کی کوئی پراپرٹی ملک سے باہر نہیں ہے لیکن ا نکے بھائی کہتے ہیں کہ الحمد للہ ان کی تین کمپنیاں ہیں۔

انڈین ایکسپریس نے حسن نواز کو کہا کہ ان کی ملک سے باہر تین کمپنیاں ہیں تو انہوں نے سوچا کہ اب میڈیا کو پتہ چل چکا ہے تو کہا کہ ان کی تین کمپنیاں ہیں۔

بھارت میں پانامہ پیپرز میں جن لوگوں کے نام آئے ہیں ان کی تحقیقات کے لئیے کمیٹی بنا دی گئی ہے جو پچیس تاریخ تک اپنی رپورٹ دے دے گی۔

پرویز رشید کہتے ہیں کہ عمران خان نے بھی بنی گالا میں ناجائز پیسے سے گھر بنایا ہے۔

میں نے اپنا بنی گالا کا گھر لندن میں اپنا فلیٹ بیچ کر بنایا ہے۔

نواز شریف ٹیکس کی چوری اور کرپشن کا پیسہ ملک سے باہر لے جا رہے ہیں۔

ساری دنیا میں پانامہ پیپرز کے انکشافات کے بعد تحقیقات شروع ہو گئی ہیں لیکن ہمارے حکرانوں نے کبوتر کی طرح آنکھیں بند کر لی ہیں۔

پی ٹی آئی نے پانامہ پیپرز کے بعد ایک کمیٹی بنا دی ہے ہم الیکشن کمشن کے پاس بھی جا سکتے ہیں۔

کیپٹن صفدر پھنس گئے ہیں ان کی بیوی کی تین کمپنیاں تھیں جو انہوں نے ڈیکلیر نہیں کیں۔

نواز شریف کے بیٹوں نے کونسا کاروبار کیا ہے کہ وہ ارب پتی بن گئے ہیں اب سب کو پتہ چل گیا ہے کہ میاں صاحب نے اپنا پیسہ بچوں کے نام کیا ہے۔

اب الیکشن کمشن، نیب، ایف آئی اے اور چوہدری نثار کا کام ہے کہ تحقیقات کریں۔

چوہدری نثار کو اور نیب کے چیرمین کو اب فیصلہ کرنا ہے کہ انہوں نے آخرت میں اللہ کو جواب دینا ہے یا نواز شریف کو جواب دینا ہے۔

میں مسلم لیگ ن والوں سے پوچھتا ہوں کہ کیا اب بھی وہ نواز شریف کا دفاع کریں گے انہیں مطالبہ کرنا چاہئیے کہ میاں صاحب اپنے اثاثے ڈیکلیر کریں۔

الیکشن کمشن کو بتانا چاہئیے کہ کیا میاں صاحب نے پانامہ پیپرز میں جن کمپنیوں کا انکشاف کیا گیا ہے ڈیکلیر کی ہیں یا نہیں۔

پچھلے تین سالوں میں پاکستانیوں نے دبئی میں ساڑھے سات ارب ڈالر کی پرپرٹی خریدی ہے۔

میں اب پارلیمنٹ میں جاؤں گا اور نواز شریف سے کہوں گا کہ اپنے اثاثے بتایں۔

میں مسلم لیگ ن والوں سے بھی کہوں گا کہ وہ اپنے زہن کی سوچ کے مطابق بات کریں۔

اس وقت ہر پاکستانی ایک لاکھ بیس ہزار روپے کا مقروض ہے۔

نیب نے کہا ہے کہ پاکستان میں ایک دن کی کرپشن بارہ ارب روپے ہے۔

میں نے اپنے اثاثے ڈیکلیر کئیے ہیں اور نیٹ پر ڈالے ہیں جو اپنے اثاثے ڈیکلیر کرے وہ ٹیکس نہیں بچا سکتا۔

نواز شریف کے پیسے ان کے نام پر نہیں ہیں غیر ملکی بنکوں میں پڑے ہیں اور آف شور کمپنیوں میں لگائے ہوئے ہیں۔

پاکستان بیس کروڑ لوگوں کا ملک ہے لیکن صرف سات لاکھ لوگ ٹیکس دیتے ہیں۔

ٹیکس نہیں دیتے قرضے لے رہے ہیں ملک کو تباہ کر رہے ہیں۔

سپریم کورٹ اور دوسرے اداروں کو کرپشن کا نوٹس لینا چاہئیے۔

قومی اشوز پر جو جماعت بھی ہمارے ساتھ مل کر چلنا چاہے ہم ساتھ چلایں گے۔

پاکستان میں کرکٹ بھی ویسے ہی چل رہی ہے جیسے دوسرے ادارے چل رہے ہیں۔ میرٹ کا قتل عام کر دیا گیا ہے۔

میاں صاحب کرکٹ کے پیٹرن چیف بن گئے ہیں تو پھر اب ہارنے کی زمہ داری بھی قبول کریں۔

نجم سیٹھی جو الیکش فکسر ہے اسے کرکٹ بورڈ کا چیرمین لگا دیا ہے کیونکہ اس نے میاں صاحب کی الیکشن جیتنے میں مدد کی تھی۔

پاکستان کرکٹ بورڈ میں اس وقت شہر یار خان اور نجم سیٹھی کے دو گروپس بنے ہوئے ہیں سارے اختیارات نجم سیٹھی کے پاس ہیں شہر یار کے پاس کچھ نہیں ہے۔

کرکٹ کو ٹھیک کرنا ہے تو احسان مانی کو لگایں جو آئی سی سی کا ہیڈ رہ چکا ہے۔