10 February, 2016 21:11

NADEEM MALIK LIVE

http://videos.samaa.tv/NadeemMalik/

10-FEBRUARY-2016

کے پی کے میں پہلے احتساب کمشن کسی کو بھی اٹھا سکتا تھا اب ترمیم کی گئی ہے کہ پہلے کچھ ثبوت فراہم کرنے چاہئییں۔ شوکت یوسفزئی کی ندیم ملک لائیو میں گفتگو

پہلے کے پی کے کے احتسات کمشن کا تمام اختیار صرف ایک شخص کے پاس تھا لیکن اب یہ پورے ادارے کو دے دیا گیا ہے۔ شوکت یوسفزئی

میں کسی شخص سے ڈکٹیشن لینے والا بندہ نہیں ہوں میں نے جو کیسز بنائے ان میں کسی سے ڈکٹیشن نہیں لی۔ حامد خان

احتساب کمشن میں میں اکیلا فیصلے نہیں کرتا تھا بلکہ سب ارکان مل کر کرتے تھے۔ حامد خان

مجھے پرویز خٹک کے خلاف کرپشن کے کوئی ثبوت نہیں ملے لیکن تحقیقات کا رخ پی ٹی آئی کی اعلی قیادت کی طرف جاتا ہے۔ حامد خان

میرے کام میں پی ٹی آئی کی طرف سے کبھی کسی نے کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی۔ حامد خان

پی ٹی آئی کی پالیسی یہ ہے کہ اگر وہ کچھ کریں تو ٹھیک لیکن کوئی اور کرے تو غلط ہوتا ہے۔ ڈاکٹر مصدق ملک

فوجی حکمرانوں نے بھی سیاست دانوں کے خلاف کرپشن کے مقدمات بنانے کی کوشش کی بھٹو کی خلاف بھی بہت کچھ کھودا گیا لیکن ملا کچھ نہیں تھا۔ شازیہ مری

جو چیز پیپلز پارٹی کے متعلق قابل تنقید تھی وہ اب پی ٹی آئی کے لئیے قابل تنقید نہیں رہی۔شازیہ مری

مسلم لیگ ن اور پی ٹی آئی ایک دوسرے کے خلاف ہیں لیکن بہت سے معاملات میں ان کی سوچ ایک جیسی ہے۔ شازیہ مری

اگر کے پی کے کا احتساب کمشن پی ٹی آئی کے وزرا کے خلاف کوئی تحقیقات کر رہا ہے تو وہ جاری رہییں گی۔شوکت یوسفزئی

کے پی کے میں کسی بھی منصوبے کا ساٹھ فیصد تک کرپشن کی نظر ہو رہا ہے۔ حامد خان

پہلئ جب کسی کو کرپشن کے الزام میں گرفتار کیا جاتا تھا تو پینتالیس دنوں کو ریمانڈ ملتا تھا لیکن اب وہ پندرہ دنوں کا کر دیا گیا ہے۔ حامد خان

کے پی کے احتساب کمشن میں اس وقت پی ٹی آئی کے آٹھ سے زیادہ وزرا کے خلاف کرپشن کی تحقیقات ہو رہی ہیں۔ حامد خان

پی ٹی آئی مسلم لیگ ن پر کنبہ پروری کا الزام لگاتی ہے جبکہ خود کے پی کے میں ہسپتالوں کو ٹھیک کرنے کے لئیے اپنے خالہ زاد برکی صاحب کو لے کر آئی ہے۔ ڈاکٹر مصدق

برکی صاحب بہت قابل آدمی ہیں ان کی قابلیت میں کسی کو شک نہیں ہے وہ خدمت کے جزبے سے امریکہ سے آئے ہیں۔شوکت یوسفزئی

مسلم لیگ ن نے بھی اپنے رشتہ داروں کو اداروں کا سربراہ لگایا ہے اور جہاں رشتہ دار نہیں ملا وہ ادارے ابھی تک خالی پڑے ہیں۔ شازیہ مری

احتساب کرنے کے لئیے ایک مظبوط ادارہ اس کا ایک مظبوط سربراہ اور حکومت کی نیک نیتی ہونا بہت ضروری ہے۔ حامد خان