11 November, 2015 22:28

NADEEM MALIK LIVE

http://videos.samaa.tv/NadeemMalik/

11-NOVEMBER-2015

نیشنل ایکشن پلان میں فوجی آپریشن ایک حصہ ہے جبکہ دوسرا حصہ ٹیرر فنانسنگ روکنا پولیس اور عدالتی اصلاحات کرنا ہے۔ اطہر عباس کی ندیم ملک لائیو میں گفتگو

مدرسہ ریفارمز، نفرت انگیز تقریروں، لٹریچر اور کالعدم تنظیموں کے خلاف کام کرنے کی ضرورت ہے۔ اطہر عباس

جب تک دہشت گرد فراہم کرنے والی اکیڈمیوں کے خلاف کام نہیں کیا جائے گا کامیابی نہیں ہو سکتی۔ اطہر عباس

فوج اندرونی معاملات میں پھیلتی جا رہی ہے اور پھنستی جا رہی ہے یہ کوئی اچھی صورت حال نہیں ہے۔ اطہر عباس

سوات میں آج بھی دو ہزار لوگ ایسے ہیں کہ جن کو عدالتوں نے سزایں دینی ہیں۔ اطہر عباس

نیشنل ایکشن پلان پر فوج اور سول ادارے ایک پیج پر ہیں اور افہام و تفہیم سے فیصلے ہوتے ہیں۔ عابد شیر علی

ہر ادارے کو خود کا ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے انصاف ملنے میں بیس سال لگتے ہیں تو پھر معاشرے میں انتشار پھیلتا ہے۔ عابد شیر علی

شہباز شریف نے پنجاب پولیس میں میرٹ پر بھرتیاں کیں ہیں۔ عابد شیر علی

فوج نے اپنے بیان میں بالکل درست مسائل کی نشاندہی کی ہے۔ میاں محمود الرشید

شاید پہلے حکومت کو زاتی طور پر بتایا گیا ہو لیکن کوئی بہتری نظر نہیں آئی تو بیان جاری کرنا پڑا ہو۔ میاں محمود الرشید

فوج کا پبلک میں بیان معمول کا نہیں ہے یہ حکومت کے لئیے لمحہ فکریہ ہے۔ میاں محمود الرشید

میں عابد شیر علی کے اس بیان سے مطمئین نہیں ہوں کہ فوج اور حکومت ایک پیج پر ہیں۔ میاں محمود الرشید

فوج کے بیان ک جواب میں حکومتی رد عمل کو اس طرح نہ دیکھا جائے کہ ایک دوسرے کے خلاف ہے۔ اطہر عباس

گورننس میں بہت سی خامیاں ہیں انہیں درست کرنے کی ضرورت ہے۔ اطہر عباس

اس وقت قوم سلامتی داؤ پر لگی ہے ہم بری گورننس کے عادی ہو چکے ہیں۔ اطہر عباس

فوج سمجھتی ہے کہ گڈ گورننس کے متعلق اس کے مطالبات پورے نہیں ہوئے اسی لئیے ٹکراؤ کی صورت حال پیدا ہوئی ہے۔ اطہر عباس

نیشنل ایکشن پلان کے لئیے حکومت نے اتفاق کیا تھا کہ وہ اکیلے اس پر عمل نہیں کر سکتی اسے فوج کی مدد کی ضرورت ہے۔ انبساط ملک

گورننس بہتر ہوتی تو حکومت کو فوج کی ضرورت نہیں پڑتی وہ پولیس سے کام لے لیتی۔انبساط ملک

اگرحکومت کے کسی بندے کا کسی کالعدم تنظیم کے ساتھ تعلق ہے تو اسے اٹھا لینا چاہئیے۔ عابد شیر علی

فوج سمجھتی ہے کہ اگرچہ گڈ گورننس مشکل کام ہے لیکن یہ عدم توجہی کا شکار ہے۔ اطہر عباس

نیشنل ایکشن پلان پر وفاقی حکومت کا صوبوں کے ساتھ اچھا تال میل نہیں ہے۔ میاں محمود الرشید

أج بھی حکومت کی ترجیحات غلط ہیں وہ ْترین چلا رہی ہے اور جاتی عمرہ پر سکیورٹی کے نام پر پیسے خرچ کر رہی ہے۔ میاں محمود الرشید

سکیورٹی کے سول اداروں نے کچھ اچھے کام کئیے ہیں لیکن ان میں تسلسل کی ضرورت ہے۔ اطہر عباس

جاتی عمرہ کی سکیورٹی کے لئیے حکومےت نے گزشتہ چار ماہ میں چھتیس کروڑ چوالیس لاکھ روپے جاری کئیے ہیں۔خالد رشید

جولائی کے مہینے میں شریف خاندان کی سکیورٹی پر مامور پولیس والوں کو دو کروڑ اکہتر لاکھ روپے اعزازیہ دیا گیا ہے۔ خالد رشید

اگست میں تین کروڑ کی ہائی روف جبکہ ستمبر میں پندرہ گاڑیاں پانچ کروڑ چالیس لاکھ روپے کی خریدی گئی ہیں۔ خالد رشید

اٹھائیس کروڑ بتیس لاکھ کا سپیشل بجٹ جاتی عمرہ کے ارد گرد چار اعشاریہ چار کلو میٹر جنگلہ لگانے پر خرچ کیا جائے گا اور اسے قلعہ نما بنایا جائے گا۔ خالد رشید

جاتی عمرہ میں نوے کیمرے اور سو لائٹیں بھی لگائی جایں گی۔ خالد رشید

میاں برادران نے جاتی عمرہ اور ماڈل ٹاؤن کو سرکاری رہائش گاہ قرار دے دیا ہے اور وہاں ایک قطرے پر بھی سرکاری خرچ کیا جاتا ہے۔ خالد رشید

جاتی عمرہ میں ایک دیوار کی تعمیر پر بجٹ کے علاوہ چھتیس کروڑ روپے خرچ کئیے جا رہے ہیں۔ میاں محمود الرشید

عابد شیر علی پر لاہور اور فیصل آباد میں قتل کے مقدمات قائم ہیں لیکن یہ آزادانہ پھر رہے ہیں۔ انبساط ملک

ایم کیو ایم کے کارکن ایک بیان بھی دے دیں تو انہیں جیل میں بند کر دیا جاتا ہے۔ انبساط ملک

نیشنل ایکشن پلان کو اچھی لیڈر شپ نہیں ملے گی تو پھر یہ کامیابی حاصل نہیں کر سکے گا۔ اطہر عباس

فوج کا بیان حکومت کے لئیے وارننگ ہے اسے بہتر گورننس کی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ میاں محمود الرشید

جن اداروں میں کمزوریاں ہیں انہیں دور کیا جائے اور انہیں بہتر وسائل فراہم کئیے جایں۔ اطہر عباس