27 July, 2015 22:44

NADEEM MALIK LIVE

samaa.tv/nadeemmaliklive/

27-JULY-201

جب میں نے کنٹینر چھوڑ دیا تو جنرل پاشا نے کہا تھا کہ وہ مجھے چوہدری نثار اور خواجہ آصف کو نہیں چھوڑیں گے۔ جاوید ہاشمی کی ندیم ملک لائیو میں گفتگو

جنرل پاشا اور جنرل کیانی شامل تھے یا نہیں لیکن عمران خان کہتے تھے کہ وہ ان کے ساتھ ہیں۔ جاوید ہاشمی

عمران خان یہ بھی کہتے تھے کہ چیف جسٹس بھی ان کے ساتھ ہیں۔ جاوید ہاشمی

جب میں پہلے بار عمران خان سے ملنے کراچی گیا تو وہ گاڑی میں کہ رہے تھے کہ ان کی جنرل پاشا سے بات ہو چکی ہے۔ جاوید ہاشمی

اس بات کے بہت سے شواہد موجود ہیں کہ جنرل پاشا اور جنرل ظہیر پی ٹی آئی کو سپورٹ کرتے تھے۔ شیخ وقاص اکرم

میری یہ زاتی رائے تھی کہ دھرنے کے وقت جس طرح کے حالات تھے عدلیہ اس پر سوو موٹو نوٹس لے سکتی ہے۔ میاں محمود رشید

اگر جنرل پاشا کا دھرنے میں کوئی کردار تھا تو اس وقت اس کے متعلق بات کی جانی چاہئیے تھی۔ میاں محمود رشید

عمران خان نے ایک طویل جدوجہد کی وہ گلی گلی پھرتا رہا ۔ میاں محمود رشید

میں نے اس وقت اسٹیبلشمنٹ کا نام لیا کہ وہ عمران خان کی مدد کر رہی ہے جب کوئی اور نہیں کہہ رہا تھا۔ جاوید ہاشمی

عمران خان نے کہا تھا کہ ہم ابھی لاہور سے چلیں گے بھی نہیں کہ ایمپائر کی انگلی اٹھ جائے گی اور نواز شریف استعفی دے دے گا۔ جاوید ہاشمی

مجھے عمران خان نے کبھی ایمپائر کا نام نہیں بتایا۔ جاوید ہاشمی

عمران خان نے یہ بھی کہا تھا کہ سپریم کورٹ نوٹس لے گی اور بنگلہ دیش کی طرز کا نظام لگا دیا جائے گا۔ جاوید ہاشمی

میری کبھی جنرل پاشا سے ملاقات نہیں ہوئی۔ میاں محمود رشید

عمران خان اور ہم اب اسی پارلیمنٹ میں واپس جایں گے جسے وہ برا کہتے تھے۔ شیخ وقاص اکرم

پارلیمنٹ پر حملہ کرنے کے بعد عمران خان نے کہا کہ یہ کسی اور جماعت نے کیا تھا۔ شیخ وقاص اکرم

جاوید ہاشمی صاحب پی ٹی آئی کے لئیے جو فوج کی مدد کی کہانی سنا رہے ہیں یہ اب ایکسپوز ہو چکی ہے کہ غلط ہے۔ میاں محمود رشید

میاں نواز اور شہباز شریف نے کس کے بطن سے جنم لیا تھا جو آج جمہوریت کے چمپئین بنے ہوئے ہیں۔ میاں محمود رشید

عمران خان غلطی تو کر سکتا ہے لیکن یہ کہنا کہ فوج سے مدد لی درست نہیں ہے۔ میاں محمود رشید

جیوڈیشل کمشن کی رپورٹ کوئی صحیفہ آسمانی نہیں ہے کہ اس پر کوئی تبصرہ نہیں ہو سکتا۔ میاں محمود رشید

جنرل پاشا، جنرل ظہیر اور جنرل طارق کا کورٹ مارشل ہونا چاہئیے۔ جاوید ہاشمی

مجھے نہیں پتہ کہ طاہرالقادری کو لندن سے کون لے کر آیا تھا لیکن لانے والی یہی فوجی قوتیں ہی تھیں۔ جاوید ہاشمی

عمران خان نے اپنی پارٹی اور پریس کو کہا تھا کہ وہ طاہرالقادری سے لندن میں نہیں ملے لیکن مجھے انہوں نے کہا تھا کہ وہ ملے تھے۔ جاوید ہاشمی

پی ٹی آئی کی ہائی کمان نے بشمول عمران خان فیصلہ کیا تھا کہ ہم کسی صورت پارلیمنٹ کی طرف آگے نہیں بڑھیں گے۔جاوید ہاشمی

سیف اللہ نیازی آئے انہوں نے عمران خان کے کان میں کچھ کہا اور عمران خان نے کہا جاوید ہاشمی صاحب آگے جانا پڑے گا۔ جاوید ہاشمی

میں نے عمران خان سے کہا کہ میں اور آپ پارٹی کے بڑے ہیں یہ ڈانس کرنے والے نوجوان ہمارے کارکن ہیں ہم پارلیمنٹ کی طرف بڑھے تو یہ مایوس ہو جایں گے۔ جاوید ہاشمی

عمران خان نے آگے بڑھنے کا فیصلہ جنرل ظہیر کے کہنے پر کیا تھا۔ جاوید ہاشمی

جہانگیر ترین سے میں نے پوچھا کہ استعفی کیوں نہیں آ رہا تو انہوں نے کہا آپ نے اپنا ایک لاکھ لوگ لانے اور طاہرالقادری نے پارلیمنت پر حملہ کرنے کا وعدہ پورا نہیں کیا۔ جاوید ہاشمی

ہماری پارٹی کے فورم پر کبھی یہ بات نہیں ہوئی کہ ہم فوج کی مدد سے حکومت گرا دیں گے۔ میاں محمود رشید