29 June, 2015 21:07

NADEEM MALIK LIVE

samaa.tv/nadeemmaliklive/

29-JUNE-201

حکومت پاکستان کو ایم کیو ایم کے بھارت سے پیسے لینے کے کیس کو نظر انداز نہیں کرنا چاہئیے۔ اطہر عباس کی ندیم ملک لائیو میں گفتگو

پاکستان کو برطانیہ کی حکومت سے بھی رابطہ کرنا چہائیے کہ جن کے پاس ایم کیو ایم کے لیڈروں کے بیانات رہکارڈ ہیں۔ اطہر عباس

اگر محمد انور اور طارق میر مسترد کر دیں کہ انہیوں نے بی بی سی کو کوئی بیانات نہیں دئیے تو ٹھیک ورنہ ایم کیو ایم کی پوزیشدن بہت کمزور ہو جائے گی۔ اطہر عباس

پاکستان ڈاکٹر عمران فاروق کے کیس میں برطانیہ کی مدد کر سکتا ہے اور بدلے میں ایم کیو ایم کے لیڈروں کے بیانات کی ریکارڈنگ مانگ سکتا ہے۔ اطہر عباس

جب تک کسی سیاسی جماعت کے کارکنوں کے سامنے ٹھوس ثبوت نہ دئیے جایں وہ ماننے کے لئیے تیار نہیں ہوتے۔ اطہر عباس

جب تک کراچی میں کرمنلز کے پیچھے لوگوں پر ہاتھ نہیں ڈالا گیا مسئلہ حل نہیں ہو گا۔ اطہر عباس

جرائم پیشہ لوگوں کے پیچھے لوگوں پر ہاتھ ڈالنے سے سیاسی جماعتیں آپس میں گٹھ جوڑ کر سکتی ہیں اور کراچی آ پریشن مشکلات کا شکار ہو سکتا ہے۔ اطہر عباس

نسرین جلیل کا بھارتی سفارت خانے کو خط ایم کیو ایم کے لئیے ایک اور مسئلہ بن گیا ہے۔ قمر زمان کائرہ

ایم کیو ایم نے بھارتی سفارت خانے کو خط لکھا ہے جو پاکستان کا بد ترین دشمن ہے۔کائرہ

لندن میٹرو پولیس کراچی کی پولیس نہیں ہے کہ کہا جائے کہ اس نے تشدد کے زریعے بیان لے لیا ہے۔ فیصل واڈا

طارق میر نے جیو ٹی وی پر کہا ہے کہ وہ اپنے بیان کے الزام پر کوئی تبصرہ نہیں کرنا چاہتے یہ ان کی طرف سے اقرار جرم ہے۔ فیصل واڈا

نسرین جلیل نے بھارتی سفارت خانے کو خط لکھ کر مدد مانگی وہ اپنے لوگوں سے بھی مدد مانگ سکتی تھیں۔ فیصل واڈا

ایم کیو ایم کے خلاف شفاف تحقیقات ہونی چاہئییں ثابت ہو جائے تو قانون کے مطابق عمل ہونا چاہئیے۔ کائرہ

ایم کیو ایم کے خلاف الزامات کو عدالت میں ثابت کرنا چاہئیے ورنہ یہ صرف میڈیا بحث ہی رہ جائے گی۔ کائرہ

کائرہ صاحب ٹھیک کہتے ہیں ایم کیو ایم کے خلاف عدالت میں ثبوت فراہم کئیے جانے چاہئییں۔ شاہین صہبائی

ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل کا کیس برطانیہ کے لئیے بہت اہم ہے انہیں اسے حل کرنے کے لئیے ثبوت چاہئییں۔ شاہین صہبائی

ہو سکتا ہے کہ برطانیہ ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل کے ثبوتوں کے بدلے میں ایم کیو ایم کے متعلق ثبوت فراہم کر دے۔ شاہین صہبائی

آرمی چیف نے احتساب کے عمل کا آغاز اپنے ادارے میں بھی شروع کر دیا ہے۔ کائرہ

میں نے بھی یہ بات سنی ہے کہ جنرل راحیل شریف نے اپنے ادارے میں بھی احتساب کا عمل شروع کر دیا ہے۔ شاہین صہبائی

جنرل راحیل شریف سیاست دانوں کا احتساب آئین کے دائرے میں رہ کر کرنا چاہتے ہیں۔ شاہینْ صہبائی