28 January, 2015 22:39

NADEEM MALIK LIVE

samaa.tv/nadeemmaliklive/

28-JAN-2015

کراچی آپریشن شروع ہونے کے بعد سے ایم کیو ایم کے چھتیس کارکنوں کو مارا جا چکا ہے۔ وسیم اختر کی ندیم ملک لائیو میں گفتگو

ایم کیو ایم کے اندر جو تقسیم تھی وہ ایجنسیوں اور اسٹیبلشمنٹ نے کروائی تھی اور انہوں نے اسے قبول کیا تھا۔ وسیم اختر

اب ہماری جماعت میں اگر کوئی تقسیم پیدا کرتا ہے تو اسے نکال دیا جاتا ہے اور اس کا اعلان بھی کیا جاتا ہے۔ وسیم اختر

ایم کیو ایم کے سہیل کو ٹارچر کر کے قتل کیا گیا اس نے پیپلز پارٹی کے سعید چاولہ جنہوں نے ایک کھلی کچہری لگائی تھی کچھ سوالات کھل کر کئیے تھے۔ وسیم اختر

سہیل کو سعید چاولہ کے ساتھیوں نے کہا کہ وہ اسے دیکھ لیں گے اور اگلے دن اس کو اٹھا لیا گیا۔ وسیم اختر

سہیل کے قتل میں لا۶ اینڈ آرڈر کی ایجنسیاں اور پیپلز پارٹی کی حکومت ملوث ہے۔ وسیم اختر

کراچی کی صورت حال میں بہت سی پیچیدگیاں ہیں ایسے ہی ہر قتل کو حکومت پر ڈال دیا جاتا ہے۔ لطیف کھوسہ

ایم کیو ایم میں گروپنگ بھی ہے اور اس کا ملٹری ونگ بھی ہے۔ لطیف کھوسہ

یہ کہنا کہ سہیل کو سفید کپڑوں میں ایجنسیوں کے بندے اٹھا کر لے کر گئے تھے ایک مفروضہ ہے۔ لطیف کھوسہ

ابھی تک ہم اس بات کی تہہ تک نہیں پہنچ پائے کہ ٹارگٹ کلرز کے پیچھے کون ہے۔ طارق عظیم

کراچی میں لا۶ اینڈ آرڈر ایک صوبائی مسئلہ ہے اور پیپلز پارٹی اس کی زمہ دار ہے۔ طارق عطیم

اگر سویلین سیٹ اپ کراچی کی صورت حال کو کنٹرول نہیں کر پائے گا تو پھر فوج کو بھی طلب کیا جا سکتا ہے۔ طارق عظیم

میں مارشل لا۶ لگانے کے الطاف بھائی کے بیان کی حمایت کرتا ہوں کیونکہ میرے کارکنوں کی جانیں جا رہی ہیں۔ وسیم اختر

بھاڑ میں جائے جمہوریت جو اس وقت چل رہی ہے۔ وسیم اختر

اگر کراچی میں فوج بلانی پڑی تو آئین کے آرٹیکل دو سو پینتالیس کے تحت بلائی جائے گی۔ طارق عظیم

کراچی میں ٹی ٹی پی کے لوگ ہیں ان سے لڑنا سول حکومت کے بس کی بات نہیں ہے ان سے فوج کو لڑنے دیں۔ وسیم اختر

احمد چنائے کے ساتھ جو کچھ کراچی میں ہوا انہوں نے اس پر اپنا بیان تبدیل کیا۔ وسیم اختر

احمد چنائے بہت خوف زدہ تھے ان پر ایجنسی کا دباؤ تھا۔ وسیم اختر

پنجاب میں دہشت گردوں کی آماجگاہیں بنی ہوئی ہیں۔ لطیف کھوسہ

پنجاب میں مسلم لیگ ن کی حکومت دہشت گردوں کے کندھوں پر چڑھ کر آئی ہے۔ لطیف کھوسہ

کراچی پولیس میں بھرتیوں کے لئیے پیپلز پارٹی کے ایک وزیر نے لیاری کے ایک گنگ کے لیڈر کو اختیارات دئیے ہوئے تھے۔ وسیم اختر

سپریم کورٹ بار بار کہہ چکی ہے کہ پولیس حکومت کی نہیں ریاست کی ملازم ہے۔ لطیف کھوسہ

ایک سروے کے مطابق سندھ پولیس میں پینتالیس فیصد جانے مانے جرائم پیشہ لوگ بھرتی کئیے ہوئے ہیں۔ طارق عطیم

سندھ واحد صوبہ ہے کہ جہاں ڈاکووں نے بھی احتجاج کیا کہ پولیس والے ان سے بھتہ لیتے ہیں۔ وسیم اختر

میں کراچی پولیس سے سیاسی بھرتیوں والوں کو نکالنے کی حمایت کرتا ہوں۔ وسیم اختر