21 January, 2015 12:25

NADEEM MALIK LIVE

samaa.tv/nadeemmaliklive/

20-JAN-2015

میں نے اپنے شائع کردہ پیپر میں بتایا ہے کہ الیکشن کیسے چرایا گیا۔ چوہدری اعتزاز احسن کی ندیم ملک لائیو میں گفتگو

این اے ایک سو چوبیس کا الیکشن مسلم لیگ ن نے چرایا۔ اعتزاز احسن

این اے ایک سو چوبیس کے دو سو چونسٹھ تھیلوں میں سے ایک سو سات کی سیلیں ٹوٹی ہوئی تھیں اور اڑتیس کی سیلیں ہی نہیں تھیں۔اعزاز احسن

میں نےالیکشن کمشن کو تین درخواستیں دیں کہ آٹھ آٹھ دس دس تھیلوں کو نکال کر جعلی ووٹوں سے بھرا جا رہا ہے۔ اعتزاز احسن

تینتیس بیگ ایسے تھے کہ جن میں ردی بھری ہوئی تھی۔ اعتزاز احسن

بیشتر تھیلوں میں فارم چودہ اور پندرہ ہی موجود نہیں ہیں یہ فارم موجود نہ ہوں تو الیکشن کا نتیجہ ناقابل قبول ہوتا ہے۔ اعتزاز احسن

پریزائیڈنگ آفیسر نے اگر ووٹ کے پیچے اپنے دستخط نہ کئیے ہوں اور مہر نہ لگائی ہو تو ووٹ قابل قبول نہیں ہوتا۔ اعتزاز احسن

شیخ روحیل اصغر کو دھاندلی کے زریعے جتوایا گیا۔ اعتزاز احسن

حامد زمان خان نے اپنے حلقے میں دھاندلی ثابت کرنے کے لئیے بڑی محنت کی ہے وہاں دوبارہ الیکشن ہونا چاہئیے۔ اعتزاز احسن

الیکشن میں اریگولیرٹی نہیں ہوئی بلکہ فراڈ ہوا ہے۔ اعتزاز احسن

منصوبہ یہ تھا کہ پیپلز پارٹی کو پنجاب سے ختم کر دو اور مسلم لیگ ن اور پی ٹی آئی کا ووٹوں کا بڑا فرق دکھاؤ۔ اعتزاز احسن

میں نے اپنی رپورٹ میں تفصیل سے بتایا ہے کہ آر او نے کیا کیا اور پنجاب حکومت نے کیسے دھاندلی کی۔ اعتزاز احسن

میں نے اپنی رپورٹ میں الیکشن میں ہونے والی دھاندلی کے باقاعدہ ثبوت پیش کئیے ہیں سرٹیفیکیٹ ساتھ لگے ہوئے ہیں۔اعتزاز احسن

ہم پہلے دن سے فوجی عدالتوں کے حق میں نہیں تھے لیکن ہم نے اس کے حق میں زمہ داری کے ساتھ ووٹ ڈالا ہے۔ اعتزاز احسن

پہلے مسودے کے تحت ہر کیس ہی ملٹری کورٹس میں جا سکتا تھا جس پر میں نے اعتراض کیا۔ اعتزاز احسن

ایک نقطہ یہ بھی تھا کہ فوج کا کمانڈر فیصلہ کرے گا کہ کونسا کیس ملٹری کورٹس میں جائے گا میں نے کہا کہ یہ نہیں وفاقی حکومت فیصلہ کر گی۔ اعتزاز احسن

فضل الرحمان کے ملٹری کورٹس پر تحفظات تھے وہ دور کر دئیے گئے تو وزیراعظم نے کہا کہ وہ دعا کروایں تو انہوں نے دعا کروائی۔ اعتزاز احسن

مسودے پر اتفاق ہونے کے بعد چوہدری نثار اور پرویز رشید نے کاغز نکالے کہ ان پر دستخط کر دیں میں نے کہا کہ ہم بچے نہیں ہیں اتفاق کیا ہے تو ووٹ بھی دیں گے۔اعتزاز احسن

مولانا فضل الرحمان کو ان کے دوستوں نے کوئی مصلحت سمجھائی ہو گی جس کی وجہ سے انہوں نے بعد میں مسودے پر اعتراض کیا۔ اعتزاز احسن

اگر عدالتیں یہ یقین دھانی کروا دیں کہ وہ دہشت گردی کے کیس کا ایک مہینے میں فیصلہ کر دیں گی تو میں زمہ لیتا ہوں کہ ایک بھی کیس ملٹری کورٹس میں نہیں جائے گا۔ اعتزاز احسن

چوہدری افتخار کے پاس جیوڈیشری کو ٹھیک کرنے کا بہتریں موقع تھا لیکن کچھ نہیں ہو سکا جس کا مجھے بہت زیادہ دکھ ہے۔اعتزاز احسن