18 December, 2014 21:02

NADEEM MALIK LIVE

samaa.tv/nadeemmaliklive/

18-DEC-2014

پی ٹی آئی نے دہشت گردی کے مسئلے پر کبھی سیاست نہیں کی ہے۔ اسد عمر کی ندیم ملک لائیو میں گفتگو

الیکشن کے دو دن بعد عمران خان نے نواز شریف سے ملاقات میں انہیں دہشت گردی کے خلاف کام کرنے کو کہا۔ اسد عمر

بہت پہلے چوہدری نثار نے پارلیمنٹ میں سکیورٹی پالیسی پیش کی تھی لیکن آج تک اس پر عمل نہیں ہوا۔ اسد عمر

حکومت نے دہشت گردی کے خلاف جو کمیٹی بنائی ہے وہ کچھ نہیں کرے گی ماضی میں بہت سی کمیٹیاں بن چکی ہیں۔ وسیم اختر

میں جنرل راحیل شریف سے کہوں گا کہ موجودہ حکومت نا اہل ہے فوج دہشت گردوں کے خلاف ایکشن شروع کرے۔ وسیم اختر

اگر سیاست دانوں کے بچے مرے ہوتے تو کمیٹی نہ بنتی فوری ایکشن ہوتا۔ وسیم اختر

ہمارے لیڈرز بزدل ہیں کیونکہ وہ کرپٹ ہیں اور کرپٹ بندہ بزدل ہی ہوتا ہے۔ وسیم اختر

نفرت انگیز لٹریچر اور مسجدوں سے نفرت والی تقریروں کو روکنا ہو گا۔ اسد عمر

کراچی میں پولیس والے ڈکیتی اور اغوا برائے تاوان میں پکڑے جا رہے ہیں۔ وسیم اختر

مزہبی سیاسی جماعتوں نے اچھے اور برے طالبان کی بحث جاری رکھی اور فوج کو کنفیوژ رکھا۔ وسیم اختر

پاکستان میں مزہبی سیاسی جماعتوں کا اثر بہت محدود ہے مین سٹریم جماعتوں کو ایم نقطہ پر اکٹھا ہونا ہو گا۔ اسد عمر

پاکستان میں بیرونی ممالک سے دہشت گردی کی جا رہی ہے لیکن ہم نے اپنا کیس دنیا کے سامنے پیش نہیں کیا ہے۔ اسد عمر

دہشت گردی کے مسئلے پر آج تمام سیاسی جماعتیں اکٹھی ہیں۔ انوشہ رحمان

آج دہشت گرد لکیر کے ایک طرف اور قوم دوسری طرف کھڑی ہے۔ انوشہ رحمان

پولیس میں سیای بھرتیاں کر کے اسے تباہ کر دیا گیا ہے۔ اسد عمر

حکمران سنجیدہ نہیں ہیں کوئی بات ہوئی تو یہ ملک سے بھاگ جایں گے۔ وسیم اختر

کل کمیٹی کی میٹنگ میں نواز شریف ہنس رہے تھے جس ملک کے ڈیڑھ سو بچے مر چکے ہوں اس کا وزیراعظم کیسے ہنس سکتا ہے۔ وسیم اختر

مسلم لیگ ن کے دہشت گردوں سے تعلقات ہیں یہ ان کی مدد سے الیکشن جیتے ہیں۔ وسیم اختر

اب بیانات سے کام نہیں چلے گا اب عمل ہوتا ہوا دکھائی دینا چاہئیے۔ اسد عمر