20 November, 2014 21:12

NADEEM MALIK LIVE

samaa.tv/nadeemmaliklive/

20-NOV-2014

لاڑکانہ کے پرانے لوگ تو پیپلز پارٹی کی بات سنتے ہیں لیکن نئی نسل پی ٹی آئی کے ساتھ ہے۔ اقتدار انور نمائندہ سما۶ کی ندیم ملک لائیو میں گفتگو

نوجوانوں کے علاوہ لاڑکانہ کی خواتین بھی عمران خان کے جلسے کے بارے میں بہت پر جوش ہیں۔ اقتدار انور

پیپلز پارٹی نے جن خواتین کو نظر انداز کیا وہ اب پی ٹی آئی میں شامل ہو چکی ہیں۔ اقتدار انور

لاڑکانہ حکمرانوں کا شہر ہے لیکن یہاں ڈرینیج کا نظام تک موجود نہیں ہے۔ اقتدار انور

پی ٹی آئی کا دھرنا تین ماہ سے چل رہا ہے لیکن حکومت نے کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی۔ ڈاکٹر مصدق

حکومت نے اب تک پی ٹی آئی کے جلسوں کے لئیے تمام ممکن سہولتیں فراہم کی ہیں۔ ڈاکٹر مصدق تیس نومبر کو اگر پی ٹی آئی نے کوئی غیر آئینی اور غیر قانونی حرکت کی تو پھر قانون پر عمل ہو گا۔ ڈاکٹر مصدق

تیس نومبر کا پی ٹی آئی کا دھرنا پر امن ہو گا ہمارا دھاوا بولنے کا کوئی پروگرام نہیں ہے۔ میاں محمود الرشید

جیسے جلسے پی ٹی آئی نے کئیے ہیں ایسے کوئی اور جماعت نہیں کر سکتی۔ میاں محمود الرشید

تیس نومبر کو اسلام آباد میں ایک ملین سے زیادہ لوگ آیں گے اس وقت حالات چودہ اگست سے بہت مختلف ہیں۔ میاں محمود الرشید

عمران اپنا جلسہ لاڑکانہ سے بارہ کلو میٹر باہر کر رہے ہیں اب وہ بھی لوگوں کو بھیڑ بکریوں کی طرح گاڑیوں میں بھر کر لایں گے۔ نثار کھوڑو

پی ٹی آئی کے جلسہ کے لئیے پنڈی کے علاوہ پورے سندھ سے لوگوں کو اکٹھا کیا جا رہا ہے۔ نثار کھوڑو

حکومت اور پی ٹی آئی کے مزاکرات چل رہے تھے لیکن عمران خان نے انہیں ختم کر دیا۔ ڈاکٹر مصدق

وزیراعظم نے سپریم کورٹ کو جیوڈیشل کمشن بنانے کا خط لکھ دیا ہوا ہے اب یہ اس کا کام ہے کہ کمشن بنمائے۔ ڈاکڑ مصدق

شہباز شریف نے کہا تھا کہ اگر جیوڈیشل کمشن انہیں سانحہ ماڈل ٹاؤن پر زمہ دار ٹھہرا دے گا تو استعفی دے دیں گے۔ میاں محمود الرشید

جیوڈیشل کمشن شہباز شریف کو سانحہ ماڈل ٹاؤن پر زمہ دار ٹھہرا چکا ہے لیکن انہوں نے استعفی نہیں دیا۔ میاں محمود الرشید

حکومت نے اب تک عوام کو کیوں نہیں بتایا کہ وہ کونسے چھ پوائنٹس ہیں جن میں سے ساڑھے پانچ پوائنٹس وہ مان چکی ہے۔ نثار کھوڑو

عمران خان کا مطالبہ کہ جیوڈیشل کمشن میں آئی ایس آئی اور ایم آئی کے نمائندے شامل کیے جایں غیر مناسب ہے۔ نثار کھوڑو

جیوڈیشل کمشن کے نیچے تحقیقات کے لئیے کمیٹی بننی تھی جس میں آئی ایس آئی اور ایم آئی کے نمائندے شامل کئیے جانے تھے۔ میاں محمود الرشید

پاکستان الیکشن کمشن صاف اور شفاف الیکشن کروانے میں بالکل ناکام ہوا۔ میاں محمود الرشید