3 November, 2014 21:28

NADEEM MALIK LIVE

samaa.tv/nadeemmaliklive/

03-NOV-2014

وزارت خارجہ نے اگر سانحہ واہگہ بارڈر کی اطلاع دی تھی تو اس کا سدباب بھی کرنا چاہئیے تھا۔ چوہدری جعفر اقبال کی ندیم ملک لائیو میں گفتگو

معلومات ہونے کے باوجود دہشت گردوں کو پکڑنا آسان نہیں ہوتا۔ جعفر اقبال

سانحہ واہگہ بارڈر دوسری کربلا تھی جس کی بد قسمتی سے کوئی زمہ داری نہیں لے رہا۔ لطیف کھوسہ

حکومت نے معلومات فراہم کیں اور چپ کر کے بیٹھ گئی کیا حکومت کا صرف اتنا ہی کام تھا۔ لطیف کھوسہ

دہشت گردی کے خلاف زمینی حقائق کے مطابق پالیسی بنا نے کی ضرورت ہے۔ فیصل سبزواری

ازبکستان سے دہشت گرد پاکستان آتے ہیں تو یہاں سے کوئی ان کی مدد کرتا ہے ان کی خلاف کاروائی کیوں نہیں کی جاتی۔ فیصل سبزواری

دہشت گردی کی کئی اقسام ہیں ان کے مطابق اقدامات لینے ہوں گے۔ شاہ محمود قریشی

پچھلے سال راولپنڈی میں نو محرم کو ہونے والے واقع کی تحقیقات کی رپورٹ آج تک سامنے نہیں آئی۔ شاہ محمود قریشی

اینٹی ٹیرر ازم پر وفاق اور صوبائی حکومتوں میں آپس میں تال میل موجود نہیں ہے۔ جنرل غلام مصطفی

بد قسمتی کی بات ہے کہ سانحہ واہگہ بارڈر پر معلومات فراہم کی گئیں لیکن روکنے کے لئیے کچھ نہیں کیا گیا۔ جنرل غلام مصطفی

پارلیمنٹ میں دہشت گردی جیسے سنجیدہ موضوعات پر بات نہیں کی جاتی۔ شاہ محمود قریشی

پی ٹی آئی دہشت گردی کے خلاف کوئی سمجھوتہ نہیں کرتی دہشت گرد پاکستان کے دشمن ہیں۔ شاہ محمود قریشی

ہمارا ملک اللہ کے سہارے چل رہا ہے حکومت کی رٹ کہیں موجود نہیں ہے۔ لطیف کھوسہ

پاکستان میں دہشت گردی فرقہ وارانہ نہیں بلکہ سیاسی مسئلہ ہے۔ فیصل سبزواری

حکومت کو پاکستان میں دہشت گردی میں ملوث غیر ممالک کے بارے میں ایک واضع موقف اختیار کرنے کی ضررت ہے۔ جنرل غلام مصطفی

پولیس صرف حکمرانوں کی خوشنودی کے لئیے کام کرتی ہے اس میں موجود اچھے لوگوں کو زمہ داریاں دی جایں۔ جنرل غلام مصطفی

نواز شریف آپریشن ضرب عضب شروع کرنے کو تیار نہیں تھے جنہوں نے شروع کیا ہے قوم ان کے بارے میں سب جانتی ہے۔ لطیف کھوسہ

پنجاب میں دہشت گردوں کی پناہ گاہیں موجود ہیں۔ لطیف کھوسہ

دو ہزار دس میں سیلاب سے ہونے والی تباہی پر میں نے زمہ داروں کے خلاف کاروائی کرنے کو کہا حکومت پنجاب نے ان کو ترقیاں دے دیں۔ لطیف کھوسہ

فوج دہشت گردی کے خلاف بہت واضع ہے حکومت کو بھی ہونا پڑے گا۔ فیصل سبزواری

قوم دہشت گردی کے خلاف کھڑی ہے حکومت لیڈر شپ فراہم کرے۔ جنرل غلام مصطفی