11 September, 2014 21:13

NADEEM MALIK LIVE

samaa.tv/nadeemmaliklive/

11-SEP-2014

ہمارے فوج کے ساتھ کسی قسم کے کوئی اختلافات نہیں ہیں۔ خواجہ محمد آصف کی ندیم ملک لائیو میں گفتگو

جنرل اطہر عباس نے ریٹائرمنٹ کے بعد اپنے چیف جنرل کیانی کے بارے میں بات کر کے اچھا کام نہیں کیا ہے۔ خواجہ آصف

میاں نواز شریف صاحب کا صبر ہے کہ دھرنے والے لوگ اتنے دن گزرنے کے باوجود سڑک پر بیٹھے ہیں۔ خواجہ آصف

آرٹیکل دو سو پنتالیس لگانے کے بعد جن عمارتوں پر فوج تعینات کی گئی اس میں پی ٹی وی شامل نہیں تھا۔ خواجہ آصف

ہم سے کچھ کوتاہیاں ہوئی ہیں ہم پرفیکٹ نہیں ہیں۔ خواجہ آصف

حکومت اور پی ٹی آئی کے مزاکرات کے دوران کچھ غیر مانوس لوگ موجود تھے لیکن میں ان کے بارے میں کچھ نہیں جانتا۔ خواجہ آصف

مجھے اس بات کا بھی علم نہیں ہے کہ وہ غیر مانوس لوگ فوج کے تھے یا نہیں۔ خواجہ آصف

نواز شریف نے جنرل راحیل شریف کی تقرری میرٹ پر کی تھی اور ہمیں اس پر کوئی پچھتاوا نہیں ہے۔ خواجہ آصف

فوج کے کچھ لوگ حکومت کے خلاف ہو سکتے ہیں ہر کسی کی اپنی رائے ہوتی ہے۔ خواجہ آصف

اختلافات کے باوجود فوج کا چیف جو فیصلہ دے دیتا ہے سب اس کو مانتے ہیں۔ خواجہ آصف

پاکستان میں فوج کے کردار کو یہاں کی تاریخ کے حساب سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔ خواجہ آصف

جنرل راحیل شریف کے عمران خان اور قادری سے ملاقات کرنے کا مجھے بالکل علم نہیں تھا۔ خواجہ آصف

عمران خان تو سیاسی آدمی ہیں لیکن قادری بالکل سیاسی نہیں ہیں۔ خواجہ آصف

اگر الیکشن میں کچھ غلط ہوا ہے تو اس کا پتہ لگانا ہماری نہیں جویڈیشری کی زمہ داری ہے۔ خواجہ آصف

مسلم لیگ ن انیس سو ننانوے سے لے کر اب تک مسلسل جیت رہی ہے۔ خواجہ آصف

نواز شریف کا بار بار منتخب ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ جرنیلوں سے لڑائی میں نواز شریف حق پر تھے۔ خواجہ آصف

پی ٹیٰ آئی سے لڑائی میں جو سب سے مشکل مرحلہ تھا وہ گزر چکا ہے۔ خواجہ آصف

نیول ڈاکیارڈ پر حملے میں اندر کے لوگ ملوث ہیں اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ خواجہ آصف

نائن الیون کے بعد مشرف اپنا اقتدار بچانے کے لئیے امریکہ کے آگے لیٹ گیا۔ خواجہ آصف

ہم پہلی مرتبہ اپنے مقاصد کے تحت دہشت گردوں کے خلاف جنگ لڑ رہے ہیں۔ خواجہ آصف

مشرف کا معاملہ اب عدالت کے پاس ہے وہ جو فیصلہ کرے گی ہم آمین کہیں گے۔ خواجہ آصف

اس دفعہ توقعات سے بہت زیادہ بارشیں ہوئی ہیں۔ خواجہ آصف

میری خواہش ہے کہ شہروں کے مسائل حل کرنے کے لئیے ملک میں لوکل گورنمنٹ کا نظام موجود ہو۔ خواجہ آصف

میں اس بات سے اتفاق کرتا ہوں کہ دھرنے والوں کو بات چیت کے زریعے لاہور میں ہی روکا جا سکتا تھا لیکن ایسا نہیں ہو سکا۔ خواجہ آصف