31 August, 2014 21:31

NADEEM MALIK LIVE

samaa.tv/nadeemmaliklive/

31-AUG-2014

ہم نے مزاکرات کے دوران حکومت کو اپنی تجاویز باقاعدہ لکھ کر پیش کیں۔ اسد عمر کی ندیم ملک لائیو میں گفتگو

مزاکرات کے لئیے آںے سے پہلے پی ٹی آئی نے فیصلہ کیا تھا کہ وہ طاہرالقادری کے ساتھ وزیر اعظم ہاؤس کی طرف نہیں جائے گی۔ اسد عمر

طاہرالقادری کی یقین دھانی کے بعد کہ بالکل پر امن رہیں گے ہم نے ان کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا۔ اسد عمر

ہمارا پارلیمنٹ ہاؤس کے اندر جانے کا بالکل کوئی ارادہ نہیں تھا ابھی ہم راستے میں ہی تھے کہ پولیس نے ہمارے کارکنوں پر حملہ کر دیا۔ اسد عمر

شیریں مزاری، شفقت محمود اور میں کنٹینر سے باہر اپنی گاڑی میں بیٹھے تو پولیس نے ہماری گاڑی پر بھی حملہ کر دیا۔ اسد عمر

پورے دھرنے کے دوران میڈیا کا رویہ کم و بیش بہت مثبت رہا۔ قمر زمان کائرہ

طاہرالقادری کے وزیراعظم ہاؤس کی طرف بڑھنے کے اعلان کے بعد پی ٹی آئی کے پاس ان کا ساتھ دینے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں رہ گیا تھا۔کائرہ

پی ٹی آئی اور پی اے ٹی کو وزیراعظم ہاؤس کی طرف نہیں جانا چاہئیے تھا اگر گئے تھے تو کنٹینرز سے آگے نہیں جانا چاہئیے تھا۔ کائرہ

تمام صحافی اس بات کے گواہ ہیں کہ پہلے پولیس نے تشدد کیا پھر کارکن پارلیمنٹ ہاؤس میں داخل ہوئے۔ اسد عمر

پولیس والوں نے ہمارے کارکنوں پر بغیر کسی وجہ کے حملہ کیا اور تشدد کیا۔ طاہرالقادری

جب پتہ چلا کہ پولیس تشدد کے بعد کچھ کارکن پارلیمنٹ میں داخل ہو گئے ہیں تو میں نے انہیں منع روک دیا۔ طاہرالقادری

اب حکومت سے مزید مزاکرات کا دور باقی نہیں رہ گیا۔ قادری

پمز کے ایک ڈاکٹر نے خود مجھے بتایا ہے کہ اب تک تیرہ لوگ مارے گئے ہیں جن کو سیدھی گولیاں لگی ہیں۔ قادری

حکومت نے ان پولیس والوں کو فارغ کر دیا ہے جنہوں نے ان کے غیر قانونی احکامات ماننے سے انکار کر دیا تھا۔ اسد عمر

اب بھی وقت ہے کہ سیاسی قیادت آگے بڑھے اور مسئلے کو خود حل کر لے۔ کائرہ

حکومت اور طاقت ملنے کے بعد مسلم لیگ ن والوں کے دماغوں میں خناس آ چکا ہے اور وہ گلو بٹوں کی طرح مسئلہ حل کرنا چاہتے ہیں۔ کائرہ

پولیس والے حکومت کے غیر قانونی احکامات مان کر لوگوں پر تشدد کرنے کی بجائے استعفے دے رہے ہیں۔ کائرہ

حکومت اپنی گردن سے سریا نکال کر مزاکرات کے لئیے آئے تو ہم اب بھی بات چیت کے لئیے تیار ہیں۔ اسد عمر

ہم کل کے واقع پر وزیراعظم، وزیر داخلہ اور ان کی پوری ٹیم کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کروانے جا رہے ہیں۔ اسد عمر

میں انفرمیشن منسٹر ہوتا تو کل جیسا تشدد دیکھ کر استعفی دے دیتا۔ کائرہ