3 July, 2014 21:03

NADEEM MALIK LIVE

samaa.tv/nadeemmaliklive/

03-JULY-2014

ابھی بھی کچھ سیاسی اور مزہبی جماعتیں آپریشن ضرب عضب پر فوج کے ساتھ نہیں ہیں۔ وسیم اختر کی ندیم ملک لائیو میں گفتگو

ہمیں ہر صورت میں دہشت گردی کے خلاف جنگ جیتنی ہے کیونکہ اب یہ ہماری جنگ بن چکی ہے۔ وسیم اختر

دہشت گردی کا مسئلہ مزہبی اور سیاسی جماعتوں کا نہیں ہے بلکہ یہ ایک قوم مسئلہ ہے۔ علامہ طاہر اشرفی

حکومت میں ماضی میں طالبان خلاف کنفیوژن رہا ہے اور میرے خیال میں اب بھی موجود ہے۔ وسیم اختر

اپنی فوج کا مورال بلند رکھنے کے لئیے ہمیں اس کا ساتھ دینا ہو گا وہ ہماری جنگ لڑ رہی ہے۔ وسیم اختر

ملک کی یکجہتی کے معاملہ میں ہماری سیاسی قیادت مزہبی قیادت سے زیادہ تقسیم دکھائی دیتی ہے۔ علامہ طاہر اشرفی

ہماری اسٹیبلشمنٹ اور حکمرانوں نے تشدد پسند لوگوں کو مظبوط کیا ہے۔ علامہ طاہر اشرفی

پاکستان کی سیاسی جماعتوں کی سوچ تھی کہ دہشت گردی کا مسئلہ امن امان سے حل کر لیا جائے کسی کو دہشت گردوں سے ہمدردی نہیں ہے۔ عرفان صدیقی

آپریشن ضرب عضب سے پہلے حکومت اور فوج نے مشاورت کی تھی فوج نے اپنے طور پر یہ آپریشن شروع نہیں کیا۔ عرفان صدیقی

جو شخص بھی دہشت گرد ہے اس کے ساتھ وہی سلوک ہونا چاہئیے جو ایک دہشت گرد کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ عرفان صدیقی

اب اچھے اور برے طالبان کی تخصیص کا وقت نہیں اب سب کے خلاف آپریشن ہونا چاہئیے۔ وسیم اختر

تمام مزہبی جماعتیں اپنی استطاعت کے مطابق آئی پی ڈیز کی مدد کر رہی ہیں۔ علامہ طاہر اشرفی

آئی پی ڈیز نے ہمارے کل کے لئیے اپنا آج قربان کیا ہے سب کو ان کی مدد کے لئیے اکٹھا ہو جانا چاہئیے۔ علامہ طاہر اشرفی

ہمارے حکمران کھرب پتی ہیں ان کے گھر ایکڑوں میں پھیلے ہوئے ہیں انہیں آئی پی ڈیز کی مدد کے لئیے آگے آنا چاہئیے۔ وسیم اختر

لوگ رشوت دے کر عمرے کے ویزے حاصل کر رہے ہیں میں ان سے کہوں گا کہ یہ پیسہ آئی پی ڈیز پر خرچ کریں۔ علامہ طاہر اشرفی

جو غیر ممالک پاکستان میں دہشت گردی کے لئیے پیسے دے رہے ہیں حکومت کو ان سے بات کرنی چاہئیے۔ وسیم اختر