23 April, 2014 21:06

NADEEM MALIK LIVE

amaa.tv/nadeemmaliklive/

23-APRIL-2014

پہلئ جب کوئی خبر آتی تھی تو میڈیا پہلے اس کی تصدیق کیا کرتا تھا۔ شیخ روحیل اصغر کی ندیم ملک لائیو میں گفتگو

سیاسی اور فوجی دونوں حکومتوں نے میڈیا میں کرپشن کو پروان چڑھایا۔ روحیل اصغر

حامد میر پر حملے کے بعد آئی ایس آئی کے خلاف جو مہم چلائی گئی وہ انتہائی غلط بات تھی۔ روحیل اصغر

آجکل جس پروگرام میں لڑائی نہیں ہوتی اس کی ریٹنگ نہیں بنتی۔ نثار کھوڑو

میڈیا کے رویہ کے متعلق سیلف سنسر شپ کی بات بھی ہوتی رہی ہے۔ نثار کھوڑو

سیلف سنسر شپ ہوتی تو آئی ایس آئی کے خلاف جو مہم چلائی گئی یہ نہ ہوتا۔ نثار کھوڑو

یہ ساؤتھ ایشیا کی تاریخ ہے کہ جب آزادی ملتی ہے تو تمام حدود پار کر جاتے ہیں۔ شفقت محمود

جیوڈیشری میڈیا یا سیاست دان جس کو بھی آزادی ملی حدود سے تجاوز کر گیا۔ شفقت محمود

جب سے میڈیا طاقتور ہوا ہے سیاست دانوں کی خواہش ہوتی ہے کہ ان کی بات کو پیش کیا جائے۔ شفقت محمود

جب سیاست دان میڈیا سے اپنی مرضی کی خبر چاہتے ہیں تو صحافی بھی بک جاتے ہیں۔ شفقت محمود

میڈیا کی آزادی پر قدغن نہیں ہونا چاہئیے لیکن اسے زمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہئیے۔ شفقت محمود

میڈیا والے ریٹنگ کی خاطر سیاست دانوں کو لڑاتے ہیں تو ان کو چاہئیے وہ نہ لڑیں۔ روحیل اصغر

اگر کسی ٹالک شو میں کوئی غلط بات ہو جائے تو بعد میں اس پر معزرت کی جانی چاہئیے۔ روحیل اصغر

میڈیا بھی جیوڈیشری کے سوو موٹو نوٹس کی طرح لوگوں کی شہرت کو نقصان پہنچا رہا ہے۔ نثار کھوڑو

خبر کی تصدیق کا طریقہ پھر سے اپنا لیا جائے تو پھر کوئی قباحت پیدا نہیں ہو گی۔ روحیل اصغر

میڈیا کے کسی ادارے کو بند نہیں کرنا چاہئیے مسئلے کا حل ڈھونڈھنا چاہئیے۔ روحیل اصغر

ہم خوش ہیں کہ میڈیا آزاد ہے لیکن بغیر ثبوت کے کسی کی عزت کو نہیں اچھالنا چاہئیے۔ نثار کھوڑو

میڈیا کو آزادی ملنے میں بڑا وقت لگا ہے لیکن اس میں توازن ہونا چاہئیے۔ شفقت محمود

میڈیا کے اور دوسرے معتبر لوگوں کو مل کر کوئی ضابطہ اخلاق بنانے کی ضرورت ہے۔ شفقت محمود

جو کوئی بھی کسی کی تضحیک کرے اس کو کہیں نہ کہیں جواب دہ ہونا چاہئیے۔ شفقت محمود