22 April, 2014 21:04

NADEEM MALIK LIVE

samaa.tv/nadeemmaliklive/

22-APRIL-2014

حامد میر پر حملے کی پورے ملک کے ہر قسم کے طبقے نے مزمت کی ہے۔ عبدالقادر بلوچ کی ندیم ملک لائیو میں گفتگو

بد قسمتی سے حامد میر پر حملے کے فوری بعد ایک چینل نے آئی ایس آئی کے خلاف پروپیگنڈے کی ایک مہم شروع کر دی۔ عبدالقادر بلوچ

حکومت نے فوری طور پر حامد میر پر حملے کی تحقیقات کے لئیے ایک کمشن قائم کر دیا ہے۔ عبدالقادر بلوچ

حامد میر پر حملے کی خبر ملی تو ایسا لگا کہ جیسے مجھ پر حملہ ہوا ہے بابر غوری

حامد میر پر حملے کے بعد میڈیا نے بات کو بگاڑ دیا۔ بابر غوری

ڈی جی آئی ایس آئی کی تصویر دکھا کر اس طرح خبر چلائی گئی کہ جیسے انہوں نے اپنے ہاتھ سے گولی چلائی ہو۔ بابر غوری

حامد میر پر حملے کے آئی ایس آئی پر الزام کو بھارتی میڈیا خوب اچھال رہا ہے۔ بابر غوری

حامد میر کا خاندان جو الزام لگا رہا ہے اس کے مطابق ایف آئی آر کٹوانے کے لئیے انہیں خود سامنے آنا پڑے گا۔ سعید غنی

حامد میر پر حملے کے بعد پروپیگنڈے کے جواب میں چوہدری نثار کا بیان بہت دیر سے سامنے آیا ہے۔ بابر غوری

حامد میر پر حملے پر پروپیگنڈے کے جواب میں فوری طور پر وزارت دفاع کا بیان سامنے آنا چاہئیے تھا۔ بابر غوری

میرے خیال میں حامد میر پر حملے کے بعد پروپیگنڈے کے جواب میں فوری طور پر وزیراعظم کا بیان آنا چاہئیے تھا۔ سعید غنی

حامد میر پر حملے کے بعد نواز شریف نے اس لئیے کوئی بیان نہیں دیا کیونکہ وہ پورے ملک کے وزیراعظم ہیں کسی ایک شخص کے نہیں۔ عبدالقادر بلوچ

پچھلے دو تین ماہ سے ایم کیو ایم کے حکومت میں شامل ہونے کے معاملات طے ہو رہے تھے۔ بابر غوری

کراچی میں امن لانے کے لئیے وفاقی حکومت کو بھی بھر پور تعاون کرنے کی ضرورت ہے۔ بابر غوری

صوبے میں امن قائم کرنے کا مسئلہ صوبائی حکومت کی زمہ داری ہے وفاق کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ عبدالقادر بلوچ

کراچی میں آپریشن کرنے کا فیصلہ خود ایم کیو ایم ہی کے کہنے پر شروع کیا گیا ہے۔ عبدالقادر بلوچ

سندھ میں شہری اور دیہاتی علاقعوں کی تقسیم بہت زیادہ ہے ایم کیو ایم کے حکومت میں شامل ہونے سے اس میں کمی آئے گی۔ سعید غنی

ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی سیکیولر جماعتیں ہیں اور دہشت گردی کے خلاف مل کر بھر پور کوشش کریں گی۔ بابر غوری